Skip to content
-
Subscribe to our newsletter & never miss our best posts. Subscribe Now!
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
  • صدر اور وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کےلیے مشترکہ کوششوں پر زورJune 17, 2026
  • محرم الحرام میں اختلاف اور تفرقہ نہیں، تحمل و بردباری اپنائیں: مریم نوازJune 17, 2026
  • یمن بحران کے حل میں پیش رفت ممکن، پاکستان نے سیاسی عمل اور مذاکرات پر زور دے دیاJune 17, 2026
  • بجٹ سے متعلق تحفظات پر حکومت سے بات چیت جاری ہے: بلاول بھٹوJune 17, 2026
  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
Subscribe
Close

Search

پاکستان

بچوں کا تحفظ اور تعلیم تک رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے: صدر، وزیراعظم

By FARHAN.YOUNAS1992
June 12, 2026 3 Min Read
0

صدر مملکت کا کہنا ہے کہ بچوں کا تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہے جس میں آئین کا آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بچوں کو خطرناک نوعیت کے کاموں میں ملازمت دینے کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25-اے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ آئینی دفعات ریاست کی اس ذمہ داری کو واضح کرتی ہیں کہ وہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے فروغ کو یقینی بنائے، بچوں سے مشقت کے ان کی زندگی اور مستقبل پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، محنت مزدوری میں مصروف بچے اکثر تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا تعلیمی لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں جس سے ان کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جبری مشقت سے بچوں کی صلاحیتوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور پہلے سے مشکلات کے شکار خاندانوں پر مزید بوجھ پڑتا ہے، لہٰذا بچوں کی تعلیم کو برقرار رکھنا صرف ان کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ طویل المدتی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، ہماری توجہ اس مسئلے کی روک تھام، موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ اور ایسے بچوں کی معاونت پر مرکوز ہے جنہیں دوبارہ تعلیم اور ایک محفوظ و مستحکم ماحول کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر میں والدین، آجرین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے اور ان کی تعلیم برقرار رکھنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔

صدر مملکت نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا معیار وہاں پر بچوں سے سلوک سے جانچا جاتا ہے، پاکستان کے ہر بچے کو سیکھنے، نشوونما پانے اور ایک محفوظ و روشن مستقبل تعمیر کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔

وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ مستقبل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال یہ دن بچوں سے مشقت ناقابل قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگارکے عنوان منایا جارہا ہے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق آج بھی دنیا بھر میں 13 کروڑ 80 لاکھ بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ بچے خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سد باب، قومی معاشی اور سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے، قوموں کی ترقی، مستقبل کی افرادی قوت، بچوں کی ذہنی و جسمانی قدرتی صلاحیتوں کی افزائش اور بہترین استعمال پر منحصر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی ترجیحات میں باوقار روزگار کے فروغ اور بچوں سے مشقت کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں، حکومت تمام متعلقہ اکائیوں بشمول آجروں اور محنت کشوں کی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہی ہے،صوبائی حکومتوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں جو لائق ستائش ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں، خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، یہ اقدامات کمزور و محروم بچوں کے تحفظ اور ان کی بحالی و معاونت کے ہمارے قومی عزم کے عکاس ہیں۔

Author

FARHAN.YOUNAS1992

Follow Me
Other Articles
Previous

قصور: 17 سالہ لڑکی کو مبینہ اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

Next

محسن نقوی کی سی ایم ایچ پشاور آمد، پاک فوج اور ایف سی اہلکاروں کی عیادت

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

An online newspaper is a digital platform that delivers news and information over the internet, allowing readers to access articles anytime and from anywhere.

Address:
221B Baker Street, London NW1 6XE, United Kingdom

Contact:
+44 20 7946 0958

Email:
contact@globalnewsdaily.com

Copyright 2026 — uraan digital. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme