Skip to content
-
Subscribe to our newsletter & never miss our best posts. Subscribe Now!
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
  • صدر اور وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کےلیے مشترکہ کوششوں پر زورJune 17, 2026
  • محرم الحرام میں اختلاف اور تفرقہ نہیں، تحمل و بردباری اپنائیں: مریم نوازJune 17, 2026
  • یمن بحران کے حل میں پیش رفت ممکن، پاکستان نے سیاسی عمل اور مذاکرات پر زور دے دیاJune 17, 2026
  • بجٹ سے متعلق تحفظات پر حکومت سے بات چیت جاری ہے: بلاول بھٹوJune 17, 2026
  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
Subscribe
Close

Search

business

آئی ایم ایف ایف بی آرکی کارکردگی سے ناخوش، ٹیکس شارٹ فال 684 ارب روپے تک پہنچ گیا

By FARHAN.YOUNAS1992
May 15, 2026 2 Min Read
Comments Off on آئی ایم ایف ایف بی آرکی کارکردگی سے ناخوش، ٹیکس شارٹ فال 684 ارب روپے تک پہنچ گیا

عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) نےایف بی آر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں ایف بی آرکو ٹیکس ریونیو میں بھاری شارٹ فال کا سامنا ہے،چھ ماہ میں ٹیکس خسارہ 336 ارب روپےرہا جبکہ دس ماہ کے دوران یہ بڑھ کر 684 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

آئی ایم ایف کاکہنا ہےکہ ٹیکس ہدف میں کمی اس بات کاثبوت ہےکہ پاکستان میں ٹیکس دینےوالوں کی تعداد انتہائی کم ہے،اسی لیےزیادہ کاروبار اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔

ذرائع کےمطابق آئی ایم ایف نےدکانداروں اورریٹیلرزکی ٹیکس رجسٹریشن بڑھانے پرزوردیتےہوئےکہا ہے ذیادہ کاروبار ٹیکس نیٹ میں لانےکی ضرورت ہے،بڑا مالی لین دین صرف انہی افراد کو کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہوں،پاور، آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی۔

دستاویزات کےمطابق پاور،آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی بھی مقررہ ہدف سےکم رہی،جبکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے نیاسسٹم،ڈیجیٹل انوائسنگ اور فیکٹری پیداوار کی نگرانی سے متعلق اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ایف بی آر نےدعویٰ کیا ہےکہ اگست 2026 تک نیا آڈٹ نظام لایا جائے گا،تاکہ ٹیکس دہندگان کا یکساں اور شفاف احتساب ممکن بنایا جاسکے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ ان اصلاحاتی اقدامات سےاضافی آمدن کا فائدہ آئندہ مالی سال میں متوقع ہے،تاہم اس وقت زیادہ توجہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے بعض ارکان نے ایف بی آر کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے کاروبار اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

Author

FARHAN.YOUNAS1992

Follow Me
Other Articles
Previous

دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ

Next

بااثر منشیات فروش خواتین پولیس کی حراست فرار

An online newspaper is a digital platform that delivers news and information over the internet, allowing readers to access articles anytime and from anywhere.

Address:
221B Baker Street, London NW1 6XE, United Kingdom

Contact:
+44 20 7946 0958

Email:
contact@globalnewsdaily.com

Copyright 2026 — uraan digital. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme