Skip to content
-
Subscribe to our newsletter & never miss our best posts. Subscribe Now!
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

uraan digital uraan digital

Stay informed with the latest global news updates, in-depth analysis, and expert opinions on current events shaping our world.

  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
  • صدر اور وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کےلیے مشترکہ کوششوں پر زورJune 17, 2026
  • محرم الحرام میں اختلاف اور تفرقہ نہیں، تحمل و بردباری اپنائیں: مریم نوازJune 17, 2026
  • یمن بحران کے حل میں پیش رفت ممکن، پاکستان نے سیاسی عمل اور مذاکرات پر زور دے دیاJune 17, 2026
  • بجٹ سے متعلق تحفظات پر حکومت سے بات چیت جاری ہے: بلاول بھٹوJune 17, 2026
  • Home
    • Home Two
  • Single
  • Archive
    • Categories
      • Tech
      • Travel
      • business
      • health
      • Lifestyle
      • Tags
    • Author
  • Pages
    • 404 Error
    • Search
  • Contact Us
  • View Premium
Subscribe
Close

Search

قومی

پاکستان دنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ کا فاتح کیسے بنا؟

By FARHAN.YOUNAS1992
May 5, 2026 3 Min Read
Comments Off on پاکستان دنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ کا فاتح کیسے بنا؟

ایک سال قبل 7 مئی 2025 کو پاک بھارت سرحد کے قریب فضائی جھڑپ کے دوران کیا ہوا دنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ کیسے لڑی گئی اور اس جنگ کا آخر میں فاتح کون تھا ؟ بہت سے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے لیکن ترکیہ ٹوڈے کے ایک خصوصی آرٹیکل میں بعض اہم معلومات حقائق کو واضح کرتی ہیں کہ کیسے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اس رات اپنی جدید جنگی حکمت عملی کے ذریعے اپنے سے سات گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا ۔اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ 7 مئی 2025 کی صبح پاکستان اور بھارت کی سرحدی فضائی حدود کے قریب ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر فضائی جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئیں، جسے بعض رپورٹس میں حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ‘” فضائی جنگوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
ان غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کے تقریباً 72 طیاروں پر مشتمل ایک فارمیشن نے کارروائی کی کوشش کی، جس کے مقابلے میں پاکستان ایئر فورس (PAF) کے 42 طیاروں نے مربوط حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کی۔ ان دعووں کے مطابق اس جھڑپ کے دوران ایک انتہائی پیچیدہ “کِل چین” (Kill Chain) سسٹم استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بھارتی طیاروں کو نقصان پہنچنے کے دعوے کیے گئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے یہ بات بھی رپورٹ کی گئی کہ اگرچہ تکنیکی طور پر مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا، لیکن خطے میں ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے دانستہ تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔
بعد ازاں بعض بین الاقوامی انٹرویوز اور بیانات میں بھارتی عسکری قیادت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس رات بھارتی فضائیہ کے کچھ طیارے متاثر ہوئے تھے، تاہم ان کے مطابق اصل مسئلہ طیاروں کی تعداد نہیں بلکہ آپریشنل حکمت عملی اور تیاری سے متعلق تھا۔ بھارت کی جانب سے نقصانات کی تفصیلات یا آزادانہ شواہد مکمل طور پر جاری نہیں کیے گئے۔
رپورٹس میں پاکستانی فضائیہ کی کامیابی کی وجہ ایک مربوط ڈیجیٹل اور آپریشنل نظام کو قرار دیا گیا جسے “Detect–Track–Engage Kill Chain” کہا گیا۔ اس نظام کے تحت ریڈار، سیٹلائٹ، سائبر سسٹمز اور جنگی طیاروں کو ایک مربوط نیٹ ورک میں جوڑا گیا۔
ایک دفاعی ماہر کے مطابق اس ماڈل میں سیٹلائٹ سے حاصل کردہ معلومات، انکرپٹڈ ڈیٹا لنکس اور ریئل ٹائم ایئر ڈیٹا شیئرنگکو استعمال کرتے ہوئے پائلٹس کو فوری صورتحال کا ادراک فراہم کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں روایتی فضائی طاقت کے ساتھ ساتھ سائبر وارفیئر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس میں مواصلاتی نظام، نیٹ ورک انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اثر انداز ہونے کے دعوے شامل ہیں۔تاہم ان دعوو¿ں کی آزاد ذرائع سے تصدیق موجود نہیں، اور ماہرین کے مطابق ایسے پیچیدہ سائبر اثرات کے بارے میں حتمی رائے دینے کے لیے تکنیکی شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگی ماحول میں الیکٹرانک وارفیئر، ڈیٹا لنکس اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج کی فضائی جنگ صرف طیاروں کی نہیں بلکہ معلومات، سینسرز اور مواصلاتی نظام کی جنگ بن چکی ہے۔
خطے پر پڑھنے والے اثرات
اس واقعے سے متعلق بیانیے نے پاکستان اور بھارت دونوں کے درمیان عسکری توازن اور ڈیٹرنس کے مباحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی جھڑپیں خطے میں مستقبل کی دفاعی حکمت عملیوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سائبر صلاحیتوں کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔

7 مئی 2025 کی اس فضائی جھڑپ کو ایک طرف جہاں جدید جنگی ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے متعدد پہلو اب بھی متنازع اور غیر مصدقہ ہیں۔
یہ واقعہ بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل کی فضائی جنگیں صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ڈیجیٹل، سائبر اور خلائی نظام بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔۔۔۔۔۔

Author

FARHAN.YOUNAS1992

Follow Me
Other Articles
Previous

پاک بحریہ کا بحرہ عرب میں پھنسے بھارتی جہاز کی امداد کیلئے فوری ایکشن، عملے کو مدد فراہم کی

Next

معرکہ ٔ حق  عوام، حکومت اور  افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے: فیلڈ مارشل

An online newspaper is a digital platform that delivers news and information over the internet, allowing readers to access articles anytime and from anywhere.

Address:
221B Baker Street, London NW1 6XE, United Kingdom

Contact:
+44 20 7946 0958

Email:
contact@globalnewsdaily.com

Copyright 2026 — uraan digital. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme